پاہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسداران انقلاب اسلامی کے ایرو اسپیس ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیئر امیر علی حاجی زادے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی ساخت کے ڈرون مختلف مشن کے دوران تین ہزار کلومیٹر کے رقبے میں پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر امیر علی حاجی زادے نے سنیچر کے دن تہران میں ایک تقریب کے دوران امریکی ساخت کے ڈرون آر کيو ايک سو ستر کو ايران ميں اتارے جانے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس امريکي ڈرون کے مقابلے ميں دفاعي طاقت يا اس کو ايران ميں اتارے جانے کے لئے ضروري اطلاعات تک دسترسي سے زيادہ اہم چيز دشمن کے خطرات اور دھمکيوں کے مقابلے ميں ہمارے جوانوں کے اندر پائي جانے والي خود اعتمادي تھي۔
بريگيڈير امير علي حاجي زادے نے ايراني ساخت کے آرکيو ايک سو ستر کي کامياب پرواز کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، آر کيو ايک سو ستر کي ساخت اور بناوٹ صرف دس فيصد حصے پر محيط ہے اور اس سلسلے ميں اصل کام اس دوران پرواز کا پتہ چلاکر اسے صحيح وسالم زمين پر اتارنا، ريورس انجنيرنگ، اور کوڈز کا پتہ چلانا، اس کے بنانے سے زيادہ پيچيدہ اور مشکل ترين کام ہے جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي کے جوانوں نے انجام ديا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي کے ايرواسپيس ڈيويژن کے کمانڈر نے مزيد کہا کہ ايراني جوانوں ميں ايثارو قرباني يا بسيجي فکر کي برکت کے سبب ايران کي ہوابازي اور ميزائيلي صنعت ميں موجود خلا اور مشکلات برطرف ہوچکي ہيں۔ بريگيڈير امير علي حاجي زادہ نے کہا کہ ايران کي طاقت اس حد تک اسٹراٹيجک اہميت کي حامل ہوچکي کہ ہمارا دشمن مذاکرات کرنے پر مجبور ہوگيا ہے۔
برگيڈير حاجي زادے نے مزید کہا کہ اس بيچ اہم ترين عنصر، دشمن کے توسيع پسندانہ عزائم کے سامنے ملت ايران کي استقامت اور پائيداري ہے کہ جس سے کوئي بھي انکار نہيں کرسکتا۔
.......
/169